جھوٹی گواہی کی سزا عمر قید، چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد:(میڈیا92نیوز) قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی کا معاملہ، سپریم کورٹ نے مبینہ جھوٹے گواہ کیلئے عمر قید کی سزا کا عندیہ دیئے ہوئے معاملہ سیشن کورٹ کے سپرد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قتل کے مقدمے میں چھوٹی گواہی کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد کو مبینہ جھوٹے گواہ محمد ارشد کیخلاف سیشن کورٹ میں شکایت درج کرانے کا حکم دیا۔ سیشن کورٹ فیصل آباد محمد ارشد کیخلاف تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹرائل چلائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ناکافی شواہد اور گواہ محمد ارشد کی گواہی کے باعث ملزم ظہیر کو بری کیا گیا۔ بظاہر لگتا ہے محمد ارشد نے جھوٹی گواہی دی۔س پر سرکاری وکیل نے درخواست کی کہ جھوٹی گواہی کا معاملہ سپریم کورٹ تک نہیں آنا چاہیے۔ ٹرائل کورٹ کو جھوٹی گواہی پر سزا دینی چاہیے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں تو صرف پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ گواہ نے اپنی صفائی میں کہا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں نظر کرم کریں۔ جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نے لوہے کی پتلون پہن رکھی تھی جو آپ کو چھرے نہیں لگے؟ محمد ارشد نے کہا کہ بازو میں لگے چھرے خارش کرکے نکال دیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پہلا بیان بھی آپ نے حلف پر دیا تھا اور آپ وقوعہ کے چشم دید گواہ بنے۔ گواہ نے کہا کہ میں میڈیکل کیلئے گیا لیکن ڈاکٹر دستیاب نہیں تھا۔ اسی وجہ سے میڈیکل میں تاخیر ہوئی۔ مجھے تین تین ماہ تنخواہ نہیں ملتی۔ محنت مزدوری کرتا ہوں۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ کی مزدوری جھوٹی گواہی دینا ہے؟ حلف میں کہا جاتا ہے جھوٹ بولوں تو اللہ کا قہر نازل ہو۔ ممکن ہے اللہ کو قہر نازل کرنا منظور ہوگیا ہو۔چیف جسٹس آف پاکستان نے جھوٹی گواہی دینے پر عمر قید کی سزا کا عندیہ دیدیا۔

یہ بھی پڑھیں

نریندرمودی کی پاکستان پر ایٹمی حملے کی دھمکی

نئی دہلی (میڈیا 92 نیوز آن لائن ) بھارتی وزیراعظم نریندرمودی ایک بار پھر الیکشن …