مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم کے باعث اراضی ریکارڈ سنٹرز پر کسانوں میں بار دانہ تقسیم کی پریکٹس بھی کرپشن کی بھینٹ چڑھ گئی

لاہور(میڈیا92نیوز) مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم کے باعث اراضی ریکارڈ سنٹرز پر کسانوں میں بار دانہ تقسیم کی پریکٹس بھی کرپشن کی بھینٹ چڑھ گئی ،گرداوری، ملکیت پر اعتراضات کی بھرمار ،بار دانہ کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ مڈل مین کو بھی دالوایا گیا۔ میڈیا 92کو ملنے والی مبینہ معلومات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ادارہ لاوارث ہو کر رہ گیا انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہ ہے لوٹ مار کا بازار اراضی ریکارڈ سنٹرز پر گرم کر دیا گیا۔مزید معلوم ہوا ہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز فیصل آباد، اراضی ریکارڈ سنٹرز، گوجرانوالہ ، ملتان ، لاہور ، سیالکوٹ ، جہلم ، سائیوال ، جھنگ ، میانوالی بھکر۔ لیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈیرہ غازی خان رحیم یار خان۔ وہاڑی اوکاڑہ قصور ناروال روالپنڈی اٹک سرگودھا شیخوپورہ۔ سمیت صوبے بھر میں باردانہ کی تقسیم کی آڑ میں ایسی تاریخی کرپشن کی جس کا سابق ادوار میں کبھی کوئی مثال نہ ملی ہو ، حیران امر یہ رہا کہ اس مرتبہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی انٹیلی جنس بیورو یا ڈائریکٹرز نے بھی کسی قسم کی نا تو مانیٹرنگ کی اور نہ ہی ڈی جی PLRA. کو کوئی بریفنگ دی گی اراضی ریکارڈ سنٹرز پر آنیوالے کاشتکاروں کیساتھ غیر مناسب رویہ، رشوت وصول اور خواری کے حوالے سے بھی کوئی رپورٹ مرتب نہ کی۔کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے وزیر اعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا اور مطالبہ کیا کہ صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز کی باردانہ تقسیم کرنے کی پریکٹس کی فوری تحقیقات کروائی جائے تاکہ اس کی زد میں آنیوالے وہ اصل ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے جنہوں نے رشوت وصولی کی کرپشن کی اور سائلین کی مشکلات میں اضافہ کیاکاشتکاروں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ورلڈکپ میں شکست کے بعد رنویر کی پاکستانی شائقین کو تسلیاں

ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر جہاں بھارتی فنکار خوشی سے نہال …