تازہ ترین خبریں
محسن پاکستان (عامر محمود بٹ)

محسن پاکستان (عامر محمود بٹ)

رپورٹر کی ڈائری
گذشتہ پندرہ سالوں سے میں محکمہ ریونیو کی بیٹ کر رہا ہوں بطور بیٹ رپورٹر محکمہ ریونیو پر ایک گہری نظر بھی رکھتا ہوں اور اس محکمے کے بےتحاشہ ایسے ایشو سے بھی واقف ہوں جس سے بہت سے رپورٹرز اور افسران بھی ناواقف ہیں ویسے تو میں اینٹی کرپشن ، پی ایچ اے ، ایل ڈی اے ، کوپرآیٹو ، وغیرہ کی بیٹ بھی کرتا ہوں مگر محکمہ مال کی بیٹ میں تمام تر خامیوں ، برائیوں ، نالائقیوں ، کرپشن ، رشوت وصولی کے الزامات اخیتارات کے ناجائز استعمال کے باوجود ایک خاص بات اور ایک خاص خوبی بھی ماجود ہے جس سے اس محکمہ کے تمام افسران و ملازمین کو سیلوٹ کرنے کو بھی دل کرتا ہے اور اس محکمہ کے سٹاف کو متبادل آرمی سٹاف کہنے کو بھی جی چاہتا ہے جی ہاں پنجاب کے تمام صوبائی محکموں میں محکمہ مال واحد ڈیپارٹمنٹ اور حکومت پنجاب کا ادارہ ہے جو کے اپنے بنیادی کاموں کساتھ ساتھ تمام اضافی ڈیوٹیاں بھی احسن طریقے سے سرانجام دے رہا ہوتا ہے چاہئے پراس کنٹرول ہو یا گراں فروشی کے خلاف کاروائی ، چائیے زخیرہ اندوزی کو روکنا ہو یا زیر التو ریکوری کو اکھٹا کرنے کی بات ہو ڈینگی کی روک تھام ہو یا کرونا جیسے موزی مرض سے لڑنا ہو محکمہ ریونیو کا تمام سٹاف اور افسران ہر مورچے پر سرفرست نظر آئے گے اور یہ سٹاف اپنے افسران کے حکم پر چوبیس چوبیس گھنٹے ڈیوٹیاں دیتے ہوئے بھی دیکھائی دیتا ہے یہ واحد محکمہ ہے کہ ان ملازمین کے منہ سے بھی نہ۔ نہیں ہے بلکہ یس سر۔ کی آواز بلند ہوتی ہے تمام محکموں کے افسران و ملازمین اس صورتحال میں جہاں چھیٹوں پر رخصت ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں وہاں اپنے گھروں میں بٹھ کر کرونا جیسے بیماری سے چھٹکارے کیلے دعائیں کرتے ہوئے بھی دیکھائی دے رہے ہیں بعض افسران و ملازمین نے تو اس بیماری کے خوف سے کام کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے لیکن آفرین ہیں محکمہ ریونیو کے ُان تمام افسران کی و ملازمین کی جن کے کمانڈر ان چیف ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال ہیں اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اصغر جوہئیہ ہیں یہ افسران ہر محاذ پر سب سے پہلے اور سب سے نمایاں نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تحصیل سٹی کے تبریز صادق مری ، شایلمار کے مہندی ملعوف ، کینٹ کی مریضیہ سلیم ، رائے ونڈ کے عدنان رشید اور ماڈل ٹاون کے زیشان رانجھا جیسے اسٹنٹ کمشنرز صابان بھی دن رات کی بینادوں پر فیلڈ میں متحرک نظر آرہے ہیں اور لاہور میں ماجود تمام کا تمام ریونیو سٹاف کبھی دفعہ 144 پر عمل درآمد کروا رہا ہے کبھی شہریوں کو کرونا سے بچاو کیلے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کر رہا ہے کبھی مساجد میں اعلانات کروا رہا ہے تو کبھی گروانڈز سے نوجوانوں کو گھروں میں واپس بھج رہا ہے مہنگی داموں اشیاء خورد نوش ہو یا ماسک سنیاٹرئزر ان کی روک تھام کیلے بھی ریونیو سٹاف سے کام لیا جارہا ہے یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت ہمارے ملک کی حالت ایسی ہے کہ جیسے ہمارے ملک میں ایک جنگ چھڑ چکی ہو اور ریونیو سٹاف اور افسران اس حالت جنگ میں بھی اپنے گھروں اور اپنے پیاروں میں بٹھنے کی بجائے سڑکوں گلیوں چوباڑاہوں پر حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی زمہ داریوں کو پوڑا کرنے کیلے ہمہ وقت تیار اور مگن نظر آرہے ہیں میں بطور بیٹ رپورٹر محکمہ ریونیو کے تمام افسران و ریونیو سٹاف کی صحت یابی ان کی خوشحالی کیلے جہاں دعا گو بھی ہوں وہاں ملک کے اس بدترین حالات میں بھی اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کام کرنے والوں ان افسران اور ملازمین کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے ملک میں افواج پاکستان کے بعد اگر کوئی ادارہ ایسا ہے جو اپنی جان مال اور اپنے گھر والوں کی پروا کیے بغیر ملک پاکستان کی عوام الناس کو محفوظ بنانے کیلے میدان جنگ میں ماجود ہے اور کرونا جیسے مرض کو شکست دینے کیلے عوام الناس کی حوصلہ افزائی کرنے میں بھی مگن ہے اس کساتھ ساتھ میں اپنے ملک کی آرمی ، ڈاکٹرز ، پولیس افسران وملازمین ، ججز صابان ، وکلا، اور تمام اداروں کیلے بھی دعا گو ہوں جنہوں نے اپنے ملک کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ُان پر آنیوالی آفت اور مصیبت کے سامنے وہ ڈٹ کر کھڑے ہو چکے ہیں یہ لوگ ایک تاریخ رقم کر چکے ہیں اور تاریخ میں ان لوگوں کے نام اور کردار ہمشیہ فخر کساتھ یاد کیے جائیں گے پاکستان زندہ آباد

یہ بھی پڑھیں

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑناہے (شفیق چوہدری)

لاک ڈاؤن میں ذندگی (محمد شفیق چوہدری)

قوم ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، کہ کریں تو کیا کریں ہر آنے والا …