تازہ ترین خبریں
کرونا وائرس کے بعد کی زندگی (نعیم بخش تارڑ)

کرونا وائرس کے بعد کی زندگی (نعیم بخش تارڑ)

اللہ تعالی کی زات ہمیں،ہمارے ملک کو اور پوری انسانیت کو انشاءاللہ اس وباء سے چھٹکارہ دے گی۔اور زندگی کی رونقیں پھر سے بحال ہو جائے گئیں۔ لیکن کرونا کے بعد کی زندگی، کرونا سے پہلے گزاری گئی زندگی سے یکسر مختلف ھو گی۔ اس تبدیلی میں سب سے نمایاں تبدیلی ہمارے معاشرتی رویوں میں نظر آئے گی۔ معاشرتی اقدار، نارم، رسم و رواج یکسر بدل جائے گئے۔ آنے والی زندگی میں ہاتھ ملا کر سلام لینا شاید ختم ھو جائے۔لوگ دور سے زبانی سلام دعا کریں گے۔ گلے ملنے کی رسم دم توڑ جائے گی۔معاشرتی میل ملاپ بہت کم ھو جائے گا۔ شادی بیاہ میں بڑے بڑے فنکشن ختم ہو جائے گئے۔ قل شریف کے ختم کو خیر باد کہہ دیا جائے گا۔پوری دنیا میں ایسے پروگرامات جن میں اب سینکڑوں، ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں شاید دیکھنے کو نہ مل سکیں۔
سب سے بڑی تبدیلی ٹیکنالوجی میں آۓ گی۔ ٹچ کی جگہ وائس ٹیکنالوجی کی طرف دنیا پلٹ جائے گی۔ موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ آپ کی آواز کے تابع حو جائے گۓ۔ اےٹی ایم مشین، لفٹ ،گاڑی شاید ہر وہ چیز جس میں آپ کے ہاتھ کا لمس استعمال ہوتا ہے کرونا کے بعد کی زندگی میں وہ ہاتھ کا لمس آپ کی آواز سے تبدیل ھو جائے گا۔ گھروں کے دروازے سے لے کر آپ کی گاڑی تک سب آپ کی آواز کے ساتھ کھلے اور بند ہو گا۔
دنیا کاغذ کی کرنسی سے ڈیجیٹل کرنسی کا سفر اب بہت جلدی طے کر لے گی۔ بنک میں کرنسی جمع کروانے کا اور نکلوانے کا رجحان ختم ہو جائے گا۔ اے ٹی ایم مشین شاید ناپید ہو جائے۔پبلک ٹرانسپورٹ کا انداز یکسر تبدیل ہو جائے گا۔ وائرس فری بسوں کے اشتہارات آۓ گئے۔بس اڈے پر ٹکٹ کے ساتھ ایک ماسک بھی دیا جائے گا۔ماسک کے بغیر بس میں داخلہ ممنوع ہو گا۔ بس کے دروازے پر آٹومیٹک سپرے مشین آپ کو وائرس سے پاک کرے گی۔بس کے اندر کوئی سیٹ دوسری سیٹ کے ساتھ نہیں ہو گی۔ ہر سواری کا علیحدہ کیبن ہو گا۔ جس میں ہر ریفرشیمنٹ موجود ہوگی۔ ہر ملک کے ایرپورٹ پر جدید میڈیکل سسٹم نصب ہو گا جس سے آنے والے ہر مسافر کی پوری سکریننگ کی جائے گی کہ آیا اس کے ساتھ کوئی وائرس تو نہیں آ رہا۔ انٹرنیشنل ٹریول بہت مشکل اور پچیدہ ہو جائے گا۔
گھروں اور دفاتر کی تعمیر کا انداز بھی بدل جائے گا۔گھروں کے گیٹ اور دفاتر کی مین انٹرینس پر وائرس کش جدید سسٹم نصب ہو گئے۔ ایسی کمپنیاں وجود میں آئیں گی جو گھروں اور دفاتر کو آ کر ہر ہفتے وائرس کش سپرے کیا کریں گی۔ گھروں کی چھتوں میں جدید آٹومیٹک سپرے سسٹم نصب ہو گئے۔ آپ کہیں مہمان جائیں گے تو گیٹ پر آپ کو سنٹیزر نصب ملے گا جس سے آپ ہاتھ سپرے کر کے اندر داخل ہو سکے گے۔ آپ کے میزبان حتی الامکان کوشش کریں گے کہ آپ جلدی اٹھ کر چلے جائیں۔بچوں کا میل ملاپ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ مل کر بھنگڑا ڈالنا، کھابے کھانے ، شوروغل سب ناپید ہو جائے گا۔ ہر دفتر میں ماسک سے ڈھکے چہرے اور خوف سے گھرے دل نظر آئیں گے۔ فائل سسٹم ختم ہو جائے گا۔ ہر ٹیبل پر سینٹزر موجود ہو گا اور ہاتھوں پر دستانے نظر آئے گئے۔ مہر لگانے کا رواج ختم ہو جائے گا۔ الیکٹرانک سائن کیے جائے گئے۔
ماسک اور سینیٹرز کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جائے گا جس سے جلد کی بہت سی نئی بیماریاں جنم لیے گی۔ جلد کے ساتھ یہ کیمیکل معدے تک زیادہ مقدار میں پہنچنے سے میڈیکل سائنس کو نئی بیماریاں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حتی کہ کرونا کے بعد والی زندگی اب والی زندگی سے یکسر مختلف ھو گی انسانی رویوں سے لے کر سائنس کی دنیا تک سب بدل جائے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ امین۔
تحریر: نعیم بخش تارڑ

یہ بھی پڑھیں

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑناہے (شفیق چوہدری)

لاک ڈاؤن میں ذندگی (محمد شفیق چوہدری)

قوم ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، کہ کریں تو کیا کریں ہر آنے والا …