تازہ ترین خبریں
کرونا سے ڈرنا نہیں لڑناہے (شفیق چوہدری)

مکمل انگریزی میڈیم (شفیق چوہدری)

تعلیم ایسا زیور ہے جس سے آراستہ پیراستہ ہونے کے لئے ٹھانی ہے۔ جگہ جگہ گلی گلیایکچھوٹا سا بورڈ آویزاں نظر آتا ہے کہ مکمل انگریزی میڈیم‘۔ شایدکبھی ایک دفعہ مولانا حالی کی زبانی سنا تھا کہ انگریزیہمیں سیکھنی چاہیے۔ تب سے اس جتجو میں مگن ہیں کہ کس طرح اس فن علوم پر قابو پايں۔ سرکاری سکولوں میںچونکہ یہ کام ممکن نہی تھا لہذا با امر مجبوری یہ کام پرائیویٹ اداروں کے سپر د کرنا پڑا۔ انگریزی ایک مشکل زبان ہے بہرحال اس بات کا برملا اعتراف کرنا پڑے گا۔ آج بھی کبھی کوئی درخواست لکھنی پڑ جائے تو دو چار دوستوں سے صلاح مشورہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

نوک پلک البتہ کسی ایک آدھ اور سے بھی کروالی جاتی ہےتاکہ غلطی کا امکاننہ رہے۔تعلیمی درسگاہوں میں معاملہ زرا تھوڑا سا مختلف ہے ۔ وہاں اکثر یہ فریضہ کسی ایک استادکے ذمہ ہی لگایا جاتا ہے اور اسی کےزور قلم سے سبمستفید ہوتے ہیں۔ کسی بد خواہ نے یہ اڑادی کہ ا ساتذہ ا کرام کو تو خود انگلش لکھنا پڑھنا نہیں آتی ۔اور بات اکابرین ا کرام تک جا پہنچی۔ فیصلہہوا کہ یہ کام چونکہ ہمارے بس کی بات نہی ۔نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا بھی انتہایٰ ضروری اور یہ کام انگریزی سیکھنے کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لیے ضروری ٹھہرا کہ پرائیویٹ پارٹنرشپ کا دروازہ کھولا جائے۔

چلو دیر آید در ست آید ۔ تبسے ہر گلی کے کونے پے لکھا نظر آتا ہے ’مکمل انگریزی میڈیم‘۔ایک زمانہ تھا جب سکول میں ان ٹرینڈ ٹیچر بھی بھرتی کر لیے جاتے تھے ۔ اس کام کے لیے فقظ ایک عدد ایم پی اے کی سفارش درکار ہوتی تھی۔ شروع میں تواس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ ا ن ٹریینڈ کون سی ڈگری ہوتی ہے جس کے پیچھے لو گ دیوانہ وار بھاگ رہے ہوتے ۔ کچھ عرصہ بعد یہ راز تب افشاں ہوا جب چھٹی کی درخواست لکھنے والا ٹیچر چھٹی پر تھا۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا اچھا خاصا فائدہ ہوا۔ ایک زمانہ تھا جب پڑھنے والے تھے تو پڑھانے والے نہ تھے ۔ اب پڑھانے والے سوچوں میں گم ہیں کہ پڑھنے والے کہاں چلے گئے ۔ انگریزی سیکھنے کے لئے ہمیں کیا کیا کچھ نہ کرنا پڑا۔گورنمنٹ سکول کیعمارات منہدم اور سکول بند ہونے کو ہیں ٹیچرذیادہ اور شاگردکم۔ ہائے شومؑی قسمت رزلٹ پھر بھی سو فیصد کیوں نہیں آتا ۔ایک طرف وہ ہیں جو خون جلاے جاتے ہیں۔’مکمل انگریزی میڈیم‘۔ـ ’مکمل انگریزی میڈیم‘،بھلا اس قوم کو کون سمجھائے ۔

قوم شایدسمجھ چکی کہ یہ گر پرائیویٹ اداروں کے ہونہار اساتذاہ سے استفادہ حاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔ تب سے ۔کہیں دیپ جلے ۔ کہیں خون جلے۔ کا کھیل جاری ہے۔ ارباب اکرام اپنی دھن میں مدہوش ہیں کہ ہوش میں آنے کا نام نہیں لے رہے۔

اب عالم یہ ہے کہ کھانے کو کچھ ملے یا نہ ملے ۔پیٹ کاٹ کر گلی کی نکر والوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ چین جانے والوں کو بستہ تھما کر گھر بھجوا دیا جانے کا امکا ن غالب رہتا ہے۔ اس مقابلے میں بلاتفریق ہم اپنا حصہ بدرجہ اتم ہم ڈال رہے ہیں۔مغربی دنیا میں یہ سہولت صرف اشرافیہ تک کو میسر تھی ۔لیکن ہم نے یہ ،،سہولتہم کسی سے کم نہیں کے مترادف ہے،، گلی کی نکر سے لے کر دروازے کی دہلیز تک باہم میسر کردی ہے۔

ہر کام میں ہم کمال مہارت رکھتے ہیں ۔ اس لئے ہم نہیں۔ کوئی ہم سے سیکھے۔ دنیا تعلیم میں ایک نیا نظام متعارف کروادیا۔۔کہاں سکولوںمیں بنیادی سہولیات جیسی فرسودہ تصورات ، آخر کیا ضرورت کھیل کے میدانوں کی، آخر کیا ضرورت بنیادی تعلیمی قابلیت کا معیار پرکھنے کی۔کیا ضرورتکم سے کم تنخواہ کا پیمانہ مقرر کرنے کی، کیاضرورت سکول فیس مقرر ہ حد مقرر کرنے کی۔آخر اتنے جنجھٹ پالنے کی ضرورت کیا ؟ان کے بغیر کیسے ممکن کہ قوم تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتی،کیا ہوا جو سرکاری سکول بند ہو رہے ہیں ،پرائیویٹ تو چل رہے ہیں
آخر کیا ضرورت ہے کسی ایسےقانون کی جو سکول اندرونینگرانی نظام (انڈور مینجمنٹ) کا اطلا ق کرے۔

صرف بچے ہی تو پڑھتے ہیں۔ اس سے کیا فرق پڑھتا ہے ۔ پڑھانے والا کون ہے۔ کہاں پڑھتا ہے اور کون پڑھا تا ہے۔ اگر ایسے کسی قانوں کا اطلاق ہوا تو آدھے سے ذیادہ سکول بند ہو جایں گے۔ یہ بہت بڑا ظلم ہوگا اور قوم پھر سے انگریزی سیکھنے کے عمل سے محروم ہوجائے گی جس کا شاید کبھی ازالہ ممکن نہ ہو سکے

یہ بھی پڑھیں

COVID-19 اور ہماری ذمہ داریاں

COVID-19 اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: محمد معظم علی COVID-19 ایک ایسی اصطلاح ہے جو کہ موجودہ حالات میں زبان …