کفایت شعاری مہم کا اطلاق ، بیوروکریسی پر بھی نافذ

لاہور(میڈیا92نیوز)
لاہور پنجاب میں بھی وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق بیورو کریسی کی بڑی بڑی رہائش گاہوں، ذاتی استعمال میں آنے والی گاڑیوں اور لگژری گاڑیوں کے اعدادو شمار جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کےحوالے سے آج اسلام آباد میں ڈاکٹر عشرت حسین کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ اس وقت سول سیکرٹریٹ ایس اینڈ جی۔ اے۔ڈی کے زیر استعمال 487 گاڑیاں ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر 54 لگژری گاڑیاں کمپنیوں اور محکموں سے واپس لی گئی ہیں۔ یوں ان گاڑیوں کی تعداد 441 بنتی ہے۔ متعلقہ اداروں کواس حوالے سے فیصلہ سازی اور سفارشات پر شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے ۔ ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ سابقہ سیاسی حکومت کے دور میں اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے جو ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی گئی تھیں ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ بیوروکریسی اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے زیر استعمال بڑی رہائش گاہوں کی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے سیکرٹری بلدیات اور ہوم سیکرٹری ہاؤسنگ کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ جب پوری معلومات اکٹھی ہو جائیں گی تو پھر اس بارے حتمی پالیسی بنائی جائے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی کفایت شعاری پالیسی کے حوالے سے بیوروکریسی اور وزرا کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں اور سرکاری گھروں کے حوالے سے حکومت پنجاب کی بنائی گئی کمیٹی کے کنوینرسینئر وزیر وزیرِ بلدیات پنجاب عبدالعلیم خان کے ترجمان کے مطابق پنجاب حکومت کے زیر کنٹرول تمام محکموں اور اداروں ، اتھارٹیز، اورکمپنیوں سے افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں جن کی رپورٹس جلد موصول ہو جائیں گی۔ اسی طرح لاہور کے جی اوآرز سمیت پنجاب بھر کی سرکاری رہائش گاہوں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ تفصیلات کے آ جانے کے بعد کمیٹی کے کنوینرعبدلاعلیم خان کی سربراہی میں اجلاس ہوا تو پھر کچھ واضح ہو گا تاہم ان گاڑیوں اور گھروں کے حوالے سے مشاورت کی جارہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ افسران کے پاس ضرورت کے مطابق ایک گاڑی ہو گی۔ اس طرح سرکاری گھروں کے حوالے سے سروے رپورٹس آنے کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ ۔ حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی کے حوالے سے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسنچوہان نے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ کے دوسرے اجلاس میں اصولی طور پر یہ طے پایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی کفایت شعاری مہم کو صرف وزراء تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا اطلاق بیورو کریسی پر بھی ہو گا اور گاڑیاں اور پروٹوکول میں کمی اس کا اہم حصہ ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی پر وزیر اعلیٰ پنجاب عژمانبزدار سمیت ہم سب کاربند ہیں۔ خود میرے پاس بھی ایک گاڑی ہے۔ بیوروکریسی کے حوالے سے بھی ایک کمیٹی بنائی تھی جس میںسینیئر وزیر اور وزیر قانون شامل ہیں ۔ کمیٹیاپنی رپورٹ دے گی تو گاڑیوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری گھروں کے حوالے سے بھی سوچ بچار کر رہے ہیں آہستہ آہستہ فیصلے کیے جائیںگے۔

یہ بھی چیک کریں

بھارت کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی، منفی جواب پر مایوس ہوئی: وزیراعظم

اسلام آباد(نیٹ نیوز) وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات کی بحالی کی دعوت پر بھارت کے …