آج صحت کے حوالے سے کون سا اہم دن منایا جارہا ہے

(نیٹ نیوز/میڈیا92نیوز)
طرز زندگی میں تبدیلی ، معاشرتی رویے ، خصوصاً خاندانی مسائل ، معاشرتی ناہمواریاں اور غربت کے باعث دنیا بھر میں ہر چوتھا بالغ شخص ذہنی دباؤ کا شکارہے۔
10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت ا عالمی دن منایا جاتاہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔
زندگی کے بدلتے طرز اور آرام پسندی نے انسانی بدن کو بری طرح متاثر کیا ہے اس طرز زندگی نے جہاں جسم کو نقصان پہنچایا وہیں ہمارے معاشرتی رویوں خصوصا خاندانی مسائل ،معاشرتی ناہمواریوں اور غربت نے انسان پر بہت برا اثرا ڈالا ہے۔
ترقی پزیر ملکوں میں 85 فی صد تک افراد کو دماغی امراض کے کسی علاج تک کوئی رسائی حاصل نہیں۔ وہاں دماغی بیماری کو شرمندگی اور بدنامی سمجھا جاتا ہے۔

ماہر ذہنی امراض پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ یعنی ڈپریشن کا برقت علاج نہ ہونے سے انسان کے دیگر اعضا بھی متاثر ہوتے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد ذہنی امراض کا شکار ہے جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کے تدارک کے لیے علاج کے ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے ۔
نفسیاتی اور ذہنی امراض بڑھنےکے ساتھ ہی ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں نے ان بیماریوں کے خلاف آگہی کی مہم شروع کر رکھی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ اب بھی ذہنی امراض کاعلاج کرانے سے کتراتے ہیں لیکن یہ بیماریاں تب تک رہیں گی جب تک لوگ علاج کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

یہ بھی چیک کریں

جہانگیر ترین کی لاہور میں سیاسی سرگرمیاں

لاہور(نیٹ نیوز) تیمور لالی اور مشیر وزیراعلیٰ فیصل حیات جبوانہ کی جہانگیر ترین سے ملاقات۔ …