مودی سرکار نے مسلمانوں کو کشمیر بدر کرنے کی منصوبہ بندی کر لی

سری نگر(میڈیا92نیوز)مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے جس کےلیے بقاعدہ منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آسام میں مودی سرکار نے بنگلہ دیشی مہاجرین کی آڑ میں مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بھارتی شہریت سے متعلق دی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کی فہرست کل جاری کی جائے گی ۔
شہریت ثابت نہ کرنے والے شہریوں کو حراستی کیمپ میں رکھا جائے گا یا پھر ملک بدر کر دیا جائے گا ۔ اس فہرست میں بیس لاکھ کا نام شامل نہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فہرست آنے سے ایک دن قبل ریاست بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں اس متنازع قانون کے ڈرافٹ میں 40 لاکھ مسلمانوں کو غیر بھارتی قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب مقبوضہ وادی میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین کی بھرتیاں کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی ہے۔ اس حوالے سے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی دہلی کی جانب سے تقرر کردہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے ان بھرتیوں کو متنازعہ علاقے میں سب سے بڑی بھرتی مہم قرار دیا اور کہا کہ حکام آئندہ کچھ ماہ میں مختلف حکومتی محکموں میں 50 ہزار ملازمین کو بھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سری نگر میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت سیب کے کسانوں کی مدد کے لیے 70 کروڑ ڈالر مختص کرنے کے لیے تیار ہے ، بھارتی انتظامیہ کو یقین ہے کہ اس اقدام سے خطے کی معیشت بڑھے گی جس میں باغبانی خاص طور پر سیب کے باغات اہم ہیں۔ستیا پال ملک نے لوگوں کو امن کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ جلد ہی مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آجائیں گے ۔ مقبوضہ وادی کے 10 اضلاع میں موبائل فون سروسز بحال ہوجائے گی جبکہ شمالی کپواڑہ اور ہنڈواڑہ پولیس اضلاع میں بھی موبائل فون سروسز واپس آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت

اسلام آباد (میڈیا92نیوز آن لائن) وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ …