تازہ ترین خبریں
موٹروے پر خاتون سے زیادتی، فنکاروں کا ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

موٹروے پر خاتون سے زیادتی، فنکاروں کا ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

لاہور( میڈیا 92 نیوز) زیشان گیلانی سے

موٹروے پر خاتون سے زیادتی، فنکاروں کا ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

شوبز فنکاروں نے لاہور موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے ملزمان کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور موٹر وے پر گزشتہ روز گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون کے ساتھ افسوس ناک واقعہ اس وقت رو نما ہوا جب لاہور موٹر وے پر اُن کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ اس دوران ملزمان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون کو زدوکوب کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ کر انہیں گن پوائنٹ پر کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

انسانیت سوز واقعے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو ہر جانب سے ملزمان کی گرفتار کے لیے آوازیں اٹھنے لگیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں شوبز فنکاروں نے بھی خاتون سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔

اداکار فیروز خان نے اپنی ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ آپ کے بیان کی تائید کرتا رہوں گا کہ پاکستان ضرور ریاستِ مدینہ بنے گا لیکن اگر آپ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور بچوں کا قتل کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی نہیں دیں گے تو کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ اس ضمن میں آپ کو دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کرنی ہوگی اور یہی میرا مطالبہ ہے۔

اعجاز اسلم نے پی ٹی آئی کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آپ کو ان ملزمان کو سرِ عام پھانسی دے کر مثال قائم کرنی ہوگی۔

گلوکار عاصم اظہر نے اپنی ٹویٹ میں ’’زیادتی کرنے والوں کو سرِ عام پانسی دو‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔

ٹیلی ویژن میزبان رابعہ انعم نے اس ظلم پر آواز اُٹھاتے ہوئے زیادتی کے مرتکب افراد کو سرِ عام پھانسی پر لٹکانے کا کہا۔

اداکارہ صنم بلوچ نے ثناء بُچا کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے سرِ عام پھانسی کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ ثنا بچا کے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’واقعے کے بعد موٹروے حکام اپنی حدود کا تعین کرتے رہے اور اس دوران حوا کی بیٹی کی عزت کی حدود پار کی گئی اور ملزمان تو انسانیت کی حدود سے ہی گزر گئے‘‘۔

اداکارہ عائشہ عمر نےٹوئٹ کیا ’’اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ہنگامی حالت میں رات کو گھر سے باہر جانا پڑے۔ اس وقت کیا ہوگا جب اس کی فیملی کو ایمرجنسی طبی امداد کی ضرورت ہوگی؟ عائشہ عمر نے لکھا کہ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں میں رات ایک بجے سڑکوں پر خود کو محفوظ تصور کرتی ہوں مگر صرف اپنے ہی ملک میں غیرمحفوظ سمجھتی ہوں، یہاں تک کہ اپنی کار میں بھی۔

اداکارہ مہوش حیات نے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا کہ کیسے سنگاپور میں خواتین رات کو 4 بجے بھی گھر سے نکل جاتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ یہی تحفظ ہمارے ملک میں خواتین کو کیوں نہیں ہوسکتا؟

انہوں نے سوال کیا کہ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں یا کسی جنگل میں؟ ساتھ ہی انہوں نے موٹروے پر خاتون کو نشانہ بنانے والے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ جب تک ذہنیت تبدیل نہیں ہوگی کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

یہ بھی پڑھیں

بوگس رجسٹریشن تحقیقات میں بڑی پیش رفت پرائیویٹ ایجنٹ خرم گجر کی طلبی

بوگس رجسٹریشن تحقیقات میں بڑی پیش رفت پرائیویٹ ایجنٹ خرم گجر کی طلبی

اینٹی کرپشن بدل چکا ہے اب کرپٹ عناصر کا بلا تفریق کڑا احتساب ہو گا۔گوہر …