ریاستہائے متحدہ امریکہ انتخابات 2020

ریاستہائے متحدہ امریکہ انتخابات 2020

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں حکومتوں کے قیام کا طریقہ کار اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کے طرز عمل اور انتخابات کے دوران اختیار کئے جانے والے رویئے کو دنیا بھر میں مثالی قرار دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں پاکستان میں انتخابی عمل پر اٹھائے جانے والے سوالات کے حوالے سے اکثر امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ یورپی ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ 2020ء کے امریکی انتخابات کئی حوالوں سے ماضی کے انتخابات سے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ ہوا کہ برسراقتدار صدر نے انتخابات سے پہلے ہی اس بات کے اشارے دینا شروع کر دیئے کہ شکست کی صورت میں انتخابی نتائج تسلیم نہیں کئے جائیں گے۔

گزشتہ رات جب یہ تحریر لکھی گئی جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر معمولی برتری حاصل تھی لیکن اس کے باوجود کہ ابھی مکمل نتائج سامنے نہیں آئے تھے، جس طرح ن لیگ کے اُس وقت کے سربراہ میاں نواز شریف نے 2013ء کے عام انتخابات کے فیصلہ کن نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی اپنی فتح کی تقریر کر ڈالی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نتائج آنے سے پہلے ہی خود کوفاتح قرار دے دیا ہے۔

اس مرتبہ امریکی انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی معاشرے میں غیر یقینی اور عدم تحفظ کے احساس نے بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا جو الیکشن کے دن تک مسلسل بڑھتا رہا اور ووٹنگ کے روز بھی انتخابی نتائج کا نقشہ انتہائی سخت مقابلے کا پتہ دے رہا تھا جس کے نتیجے میں کشمکش اور تصادم میں شدت کا اندیشہ نظر آتا ہے۔ یہاں ہم انتخابات 2020ء کے حوالے سے کچھ اہم نکات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکی انتخابات میں بطور صدر حصہ لینے کے لئے پہلا مرحلہ تو اپنی پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے کا ہوتاہے۔ یعنی ایک امیدوار سب سے پہلے اپنی پارٹی کو اس بات پر قائل کرتا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار کے لئے موزوں ترین شخص ہے۔

حزب اختلاف کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے اپنی پارٹی کی قیادت کے سامنے یہ دلیل رکھی تھی کہ ’’اگر ہم مشی گن‘ وسکانسن اور پنسلونیا کی ریاستوں کو دوبارہ جیت لیتے ہیں تو ہم وائٹ ہاؤس بھی جیت لیں گے۔ اور یہ معرکہ سر کرنے کے لئے پوری پارٹی میں مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی نژاد جرمن سائنسداں میکس پلانک سوسائٹی کی نائب صدر منتخب

پاکستانی نژاد جرمن سائنسداں میکس پلانک سوسائٹی کی نائب صدر منتخب

(میڈیا92نیوز) پاکستانی نژاد جرمن ماہرِ جینیات آصفہ اختر کو جرمنی کی مشہور میکس پلانک یونیورسٹی …