پراپرٹی ٹیکس وصولی کی مد میں خزانےکے اربوں روپے ڈوب گئے

پراپرٹی ٹیکس وصولی کی مد میں خزانےکے اربوں روپے ڈوب گئے

پراپرٹی ٹیکس وصولی کے لیے کیٹگریزتبدیل کرنا مہنگا پڑ گیا،خزانے کواربوں روپےکےنقصان کاسامنا ہے،لاہور کی ایک لاکھ 60 ہزار پراپرٹی مالکان کی فہرستیں تیار کرلی گئیں،رواں سال ایک ارب سےزائد کانقصان ہوگا۔

محکمہ ایکسائز پراپرٹی ٹیکس وصولی میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ایکسائزحکام کے مطابق پچھلے کئی سالوں سےکیٹگریزتبدیل کرکے5لاکھ سےزائدمالکان کواربوں روپے فائدہ پہنچایا گیا،کئی سالوں سے لاہورکے 1لاکھ60 ہزارشہریوں کی پراپرٹیز پرکم ریٹس لگا کرٹیکس وصول کیا جارہا ہے،پنجاب بھرمیں 6ہزار سے زائد رہائشی ایریازکواے سے جی کیٹگریزمیں تقسیم کیا گیا ہےجس میں ویلیوکےمطابق پراپرٹی ٹیکس عائدکرکے وصولی کی جارہی ہے،ملی بھگت سےکیٹگریزتبدیل کرنے سےہرسال ریکوری ہدف کا 8فیصدمحکمہ ایکسائز کونقصان ہوتا ہے،رواں مالی سال میں ساڑھے 14ارب پراپرٹی ٹیکس کاہدف رکھا گیا ہے،رواں برس بھی اگرانہیں ریٹس پروصولی کی گئی تو 1ارب سےزائد کا نقصان ہوگا.

لاہورسمیت پنجاب بھر میں 18 لاکھ سے زائد پراپرٹی مالکان سے ٹیکس وصول کیاجاتاہے،اربن یونٹ سے ملکر کیٹگریز کے مطابق وصولی کے لئےکام شروع کیا جائےگا،ایڈیشنل ڈی جی ایکسائز نے پنجاب کی پراپرٹیز بارےڈی جی ایکسائز کو آگاہ کردیا ہے۔دوسری جانب محکمہ بلدیات نے کریانہ شاپ سمیت دیگر چھوٹے کاروبار پرٹیکس ختم کر دیئے۔محکمہ قانون نے اس حوالے سے آرڈینینس جاری کر دیا ہے، کریانہ شاپ اوردیگر چھوٹےکاروبار پر محکمہ بلدیات اب ٹیکس نہیں لگا سکےگا، محکمہ بلدیات کا پروفیشن اور ووکیشن ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

سال 2020 میں لاکھوں افراد موسمیاتی شدت کی باعث نقل مکانی پرمجبور،رپورٹ

سال 2020 میں لاکھوں افراد موسمیاتی شدت کی باعث نقل مکانی پرمجبور،رپورٹ

(میڈیا92نیوز)پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا اور کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں …