وزیر داخلہ کے بیان کی وضاحت سے سیاسی کشیدگی کم ہوگئی

وزیر داخلہ کے بیان کی وضاحت سے سیاسی کشیدگی کم ہوگئی

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے گجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ کے بعد اب22نومبر کو پشاور میں حکومت مخالف جلسہ کیلئےمیدان سج رہا ہے جس کیلئے انتظامات اور تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ، اب تک کے پروگرام کے مطابق جلسہ کیلئے موٹر وے کے قریب شہر کے داخلی راستہ دلہ زاک چوک کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں اتوار کوصبح گیارہ بجے جلسہ شروع ہوگا،اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی قائدین ظہر کے بعد خطاب کریں گے، سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے جلسہ کے شرکا سے مخاطب ہوں گے، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اورقومی وطن پارٹی پشاور جلسہ کو کامیاب بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں ، پشاور سمیت صوبہ بھر میں جگہ جگہ کارنر میٹنگز اور چھوٹے بڑے اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔

حالیہ تین اجتماعات کے مقابلہ میںپشاور جلسے کو سیاسی اعتبار سے اس لئےکافی اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے گڑھ صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑے اور کامیاب جلسے کا انعقاد یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کی منفرد پارلیمانی تاریخ ہے ، یہاں کسی پارٹی نے کبھی مسلسل دوسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کی لیکن 2013 کے بعد2018کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے متواتر دوسری مرتبہ الیکشن جیت کر صوبہ کی پارلیمانی تاریخ ہی تبدیل کردی ہے اسی لئے یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ خیبر پختونخوا تحریک انصاف کی سیاسی طاقت کا اصل گڑھ ہے چنانچہ اس وقت سب کی نگاہیں پشاور جلسہ پر مرکوز ہیں۔

گجرانوالہ اور کراچی کے جلسے میں بالترتیب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے میزبانی کی تاہم پشاور جلسہ کی میزبانی تمام اپوزیشن جماعتیں مشترکہ طور پر کریں گی البتہ پشاور جلسہ کا تمام تر دباؤ جمعیت علمائے اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی پر پڑیگا کیونکہ ان کا تعلق نہ صرف خیبر پختونخوا سے ہے بلکہ اپوزیشن کی یہ جماعتیں صوبہ میں برسر اقتدار رہی ہیں اور صوبہ میں ان کا اچھا خاصا سیاسی اثر موجود ہے، مسلم لیگ ن کےصوبائی صدر انجینئر امیر مقام کے صوبہ گیر دوروں ،مریم نواز کے سوات جلسہ اور میاں نواز شریف کے خطاب نے خیبر پختونخوا میں لیگی کارکنوں میں نیا جذبہ اورولولہ پیدا کردیا ہے ، پیپلز پارٹی بھی 22نومبر کے جلسہ میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے بھر پور تیاریوں میں مصروف ہے، اسی لئے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین دعویٰ کرر ہے ہیں کہ پشاور کا جلسہ کراچی اور کوئٹہ کے اجتماعات سے بھی بڑا ہوگا اور اس میں لاکھوں افراد شرکت کرکے ثابت کریں گے کہ خیبر پختونخوا اب تحریک انصاف کا گڑھ نہیں رہا۔

پی ڈی ایم نے پشاور جلسہ کے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے انتظامی اور نگران کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن کے اجلاس تواتر کیساتھ جاری ہیں،پی ڈی ایم خیبر پختونخوا کی انتظامی کمیٹی نے5نومبر کو پشاور کی ضلعی انتظامیہ کو جلسہ کے انعقاد کیلئے باضابطہ طور پر درخواست دیتے ہوئے اعلان کیا ہےکہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں بھی جلسہ ضرور ہوگا اپوزیشن کو پشاور جلسہ کیلئے کوئی این او سی نہیں ملی ہے البتہ انتظامیہ کی جانب سے زبانی طور پر پی ڈی ایم کو جلسہ کی اجازت دینے اورسکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی حکومت اپوزیشن کے جلسہ سے خوف زدہ ہے اور کسی نہ کسی طریقہ سے جلسہ روکنے کی کوشش کررہی ہے اسی لئے تحریک انصاف کے ترجمان اور صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے مہنگائی ، صوبہ کو درپیش حالات اور دوسرے مسائل پر پی ڈی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس پیش کش کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔

درحقیقت اس وقت تحریک انصاف حکومت کیلئے اپوزیشن کے جلسوں سے بڑا خطرہ یقیناً مہنگائی اور بے روزگاری ہے کیونکہ غربت اور بے بسی نے عوام کا جینا حرام کررکھا ہے ،حکومت اور اپوزیشن کے مابین اقتدار کی لڑائی میں الزامات اور سیاسی محاذ آرائی دن بدن بڑھ رہی ہے ، حکومت کی تمام تر توجہ اپوزیشن کو اداروں سے لڑانے اور دیوار سے لگانے پر لگی ہے تو اپوزیشن بھی ہر قیمت پر تحریک انصاف حکومت کو رخصت کرانے پر تلی ہوئی ہے ایسے میں عوام پریشان ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی بات نہیں کررہا، حکومت کو اپوزیشن کے جلسے روکنے کی بجائے مہنگائی روکنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگرحکومت مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی تو مہنگائی کے ستائے عوام کو اپوزیشن کے جلسوں میں جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں موذی کورونا وائر کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر شد آگئی ہے، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وقار احمد سیٹھ کی کورونا وائرس کے باعث انتقال نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کم خطرناک نہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر محمود جان اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت کورونا کا شکار ہوکر گھر پر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں ، عوامی مقامات پر سماجی فاصلہ رکھنے، ماسک استعمال کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنےکیلئے بالکل تیار ہی نہیں ، عوام کو انتہائی سنجیدگی سے کورونا سے بچاؤ کیلئے حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا کیونکہ اگر حالات کا ادراک نہ کیا گیا تو تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہادتوں سے متعلق بیان پر معذرت کر لی ہے ، اس ضمن میں اعجاز شاہ ، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ خود چل کر اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز پشاور گئے جہاں انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرکے نہ صرف سیاسی کشیدگی کم کی بلکہ اپنی حکومت کو ایک اضافی احتجاج سے بھی بچالیا ہے۔

اے این پی نے بھی پختون روایات کے مطابق جرگہ قبول کرتے ہوئے نہ صرف 11نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج بلکہ انکوائری کمیشن کے مطالبہ سے بھی دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے، اعجاز شاہ نے جس بھی پیرائے اور پیش منظر میں بات کی تھی خوش آئند آمر یہ ہے کہ انہوں نے معذرت کرکے ایک ناخوشگوار صورت حال کا باب بند کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا نے چین پر نئی ویزا پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے چین پر نئی ویزا پابندیاں عائد کردیں

(میڈیا92نیوز)امریکا نے چین سے متعلق نئی ویزا پابندیاں متعارف کروادی ہیں جنھیں چینی وزارت خارجہ …