تازہ ترین خبریں
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پالیسی جون 2020 سے لاگو ہوجائیگی

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پالیسی جون 2020 سے لاگو ہوجائیگی

کراچی:پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تحقیق کش پالیسی جون 2020 کے بعد سے لاگو ہوجائے گی جس کے مطابق اب پاکستانی تحقیقی رسائل کی بجائے بین الاقوامی تحقیقی جرنلز میں پاکستانی تحقیق شائع ہوگی جس کے لئے پاکستانی محقیقین بڑی رقم ادا کریں گے جس کے باعث پاکستان میں تحقیقی جرنلز کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے ۔کیونکہ پاکستانی جرنلز کو بین القوامی طور پر انِڈیکس ہونے کے لئے تین سے چار سال لگیں گے۔ اب تحقیقی مقالے سکوپس اور جے سی آر کے کیٹگری میں ہی یونیورسٹی میں تقرری اور پروموشن کے لئے قابل اعتبار ہونگی ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی تحقیقی مقالہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ زین العابدین کو ڈی جی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈویژن منتخب کیا گیا ہے جس کو دوسال کے لئے کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے ۔اور کنٹریکٹ بھی اس سال کے اختتام تک ختم ہوجائے گا ۔ کمپیوٹر سائنس کا بیک گراونڈ اور سویڈش نیشنلٹی رکھنے والے ڈی جی نے ریسرچ کمیٹیوں کو بائی پاس کراتے ہوئے نئی پالیسی چئیرمین سے اپرو کرالی ہے ۔ جس کو ویب سائیٹ پربھی ڈالا گیا ہے ۔ نئی پالیسی کے مطابق اب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے z,y,w,x کیٹگری کی بجائے بین القوامی جرنلز سکوپس اور جے سی آر جرنلز میں شائع شدہ تحقیقی مواد کو ہی پروموشن وغیرہ کے لئے تصور کیا جائے
گا۔ جس کے باعث پاکستانی جرنلز جو کہ سوشل سائینسز میں بمشکل 200 ہی ہونگے کا ہونا ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں گدھی کے دودھ کی قیمت سُن کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

بھارت میں گدھی کے دودھ کی قیمت سُن کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

لاہور ( میڈیا 92 نیوز رپورٹ) سبط اعوان سے بھارتی ریاست گجرات میں گدھوں کی …