Rapid Action Force personnel stand guard at a roadblock ahead of the Muslim Friday noon prayers in Jammu on August 9, 2019, after the Indian government stripped Jammu and Kashmir of its autonomy. - India's Muslim-majority Kashmir region was stripped of its autonomy to free it from Pakistani-encouraged "terrorism and separatism", Prime Minister Narendra Modi said on August 8. (Photo by Rakesh BAKSHI / AFP)

پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کا اختتام جنگ پر ہی ہو گا

اسلام آباد(میڈیا92نیوز)مقبوضہ کشمیر کے حق میں پاکستان کا آواز اُٹھانا بھارت کو کسی طور بھی منظور نہیں ہے ، بھارت مسئلہ کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان سمیت کوئی دوسرا ملک مداخلت نہ کرے لیکن پاکستان کی حکومت نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ عالمی فورمز پر بھی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والی مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی جو بھارت سے کسی طور برداشت نہیں ہوا۔
مسئلہ کشمیر کو لے کر حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اس حوالے سے امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کشیدگی کا خاتمہ اب صرف جنگ پر ہی ہو گا۔
قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا توڑ کرنے کے لیے اب بھارت نے بھی اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ مودی سرکار نے اپنے پارلیمانی وفود مختلف ممالک میں بھجوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب سید اکبر الدین اور واشنگٹن میں سفیر ہریش وردھن شرینگلا نے بھی امریکی ایوان نمائندگان سے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔ جس کے پیش نظر امریکی ماہرین نے ایک مرتبہ پھر سے جنگ کا خدشہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اختتام جنگ پر ہی ہو گا ، چین اور ترکی نے پاکستان کو اندرون خانہ اپنی حمایت کا یقین دلوایا اور کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد کرینگے جبکہ ایران نے پاکستان کو خیر سگالی کا واضح پیغام پہنچایا جس نے بھارت اور عرب ممالک کو بھی حیران کر دیا ۔
واشنگٹن کے معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے چھوٹی نوعیت کی جنگی مشقوں کا بھی آغاز کر دیا ہے جبکہ بیک ڈور چینل کے ذریعے امریکی انتظامیہ کو بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں نے متفقہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کشمیر کی خودمختاری کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اپنی کوششیں جاری رکھا جائے گا خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ امریکی و برطانوی میڈیا نے بھی کشمیر کو عالمی ایشو قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ ، ہیومین رائٹس کی تنظیموں اور امریکہ سمیت دیگر بڑے ممالک کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ چھڑ گئی تو اس صورت میں امریکی مفادات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت

اسلام آباد (میڈیا92نیوز آن لائن) وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ …