تازہ ترین خبریں
انتشار کو ہوا نہ دیں!

انتشار کو ہوا نہ دیں!

کیا ہم کسی بڑے انتشار کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیا ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے؟ کیا ہم اس کرونا وائرس جیسی وبا کو جس کے بارے میں عالمی ادارۂ صحت نے بڑی سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے، غیر سنجیدہ رویے اپنا کر ایک معمولی واقعہ سمجھ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ علمائے کرام نے بغیر حکومت کی منظوری اور اس سے مشاورت کئے مساجد کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیسے کر دیا، کیا اس کے بعد وبا شدت اختیار کر گئی تو اس کی ذمہ داری بھی وہ اٹھائیں گے۔ کراچی کے تاجر کس طرح یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ دکانیں کھول رہے ہیں۔ کیا وہ یہ ذمہ داری بھی اٹھا رہے ہیں کہ دکانیں کھولنے سے کرونا مزید نہیں پھیلے گا، پھیلا تو ہم ذمہ دار ہوں گے۔ کیا ذمہ داری اٹھانے کے لئے صرف حکومتیں رہ گئی ہیں، جن کی آپ بات نہیں مان رہے۔

کیا دنیا کے کسی اور ملک میں بھی ایسا ہوا ہے، کیا سعودی عرب میں علمائے کرام نے مساجد کھولنے کا کوئی حکم جاری کیا ہے، کیا یورپ اور امریکہ میں چرچز اور مساجد بغیر حکومت کی منظوری کے کھل سکتی ہیں، کیا نیویارک کے تاجر اتنی جرأت رکھتے ہیں کہ حکومت کے خلاف اعلانِ بغاوت کرکے دکانیں کھولنے کا فیصلہ کریں۔ یہ کیسی انارکی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مساجد یا بازار کوئی سیاسی یا نظریاتی بنیاد پر تھوڑا بند کئے گئے ہیں، ان کا مقصد تو ایک ایسی وبا کو پھیلنے سے روکنا ہے، جو دنیا میں اب تک سوا لاکھ کے قریب انسانوں کو لقمہ ء اجل بنا چکی ہے، جس کا واحد توڑ یہی ہے کہ انسانوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی لگائی جائےّ اب اس عجیب منطق کو کون مانے گا کہ سعودی عرب کی طرح مساجد کو بند کرنا ہے تو پہلے یہاں سعودی عرب جیسا نظام بھی لاؤ۔ یہاں تو سعودی عرب ایک بڑی مثال کی صورت سامنے ہے، جہاں خانہ کعبہ بھی ہے اور روضہ ء رسولؐ بھی، اگر وہاں احتیاطی تدابیر کے طور پر کچھ دنوں کے لئے طواف اور زیارت پر پابندی لگا ئی جا سکتی ہے، مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی مؤخر کی جا سکتی ہے،تو پاکستان میں مساجد کا لاک ڈاؤن کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

کورونافنڈز کی تقسیم کے حوالے سے یہ اہم کام کیا جائے،وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کوہدایات

حکومت نے 30اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے۔ اصولی طور پر اب لاک ڈاؤن بغیرکسی اگر مگر کے ہونا چاہیے تھا، اسے کھول دو، اسے بند کردو، اس شعبے کو رعایت ہو گی، اس شعبے پر پابندی رہے گی، جیسے فیصلے کنفیوژن اور افراتفری پیدا کر سکتے ہیں، تاہم اگر حکومت نے ایسے فیصلے کئے بھی ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی وہی اٹھائے گی، ان فیصلوں سے اگر کرونا وبا پھیلی تو حرف بھی حکومت پر ہی آئے گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ اسے مثال بنا کر باقی شعبوں کے لوگ از خود یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ انہوں نے لاک ڈاؤن نہیں رکھنا، اس فیصلے کو نہیں ماننا، ریاست کے فیصلے ریاست ہی کو جچتے ہیں، اگر انفرادی طور پر فیصلوں کی اجازت دے دی جائے تو وہ کہرام مچے گا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ حکومت کی طرف سے مساجد اور نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے بارے میں مشاورت کے لئے ایوانِ صدر میں 18اپریل کو ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں ان تمام علماء کرام سے مشاورت کی جائے گی، جنہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرکے یک طرفہ طور پر مساجد کھولنے اور لاک ڈاؤن توڑنے کا اعلان کیا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ علمائے کرام کوئی پریس کانفرنس کرنے سے پہلے اس اجلاس کا انتظار کر لیتے، اتنی کیا ایمرجنسی اور جلدی تھی کہ پریس کلب کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کیا یہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش نہیں کہ اجلاس سے پہلے ہی یہ ماحول بنا د یا جائے کہ حکومت مساجد کو کھولنے کے سوا اور کوئی فیصلہ کر ہی نہ سکے۔ کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کو یہ پیغام دیا جائے کہ چاہے ملک میں ایک بڑی تباہی آ جائے اصل حکم ریاست کے امیر کا نہیں بلکہ ہمارا چلے گا۔

سب دیکھ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے اور پبلک مقامات پر پابندی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں پاکستان میں کرونا اس تیزی سے نہیں پھیلا جیسے دنیا کے مختلف ممالک میں تباہی مچا رہا ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان نے اس حقیقت کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے لئے بھی یہی عمل جاری رکھا جائے، تاکہ کرونا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس ساری کامیابی کو اگر ہم اپنے غیر سنجیدہ فیصلوں سے ضائع کر دیتے ہیں تو ہم سب سے بڑا احمق کوئی نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں کہ کرونا کے کیسز سامنے آنا رک گئے ہیں، ہر روز دو تین سو کرونا کیس سامنے آ رہے ہیں۔ گویا پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے باوجود ان کی تعداد کم نہیں ہو رہی، اگر اس موقع پر ہم سب کچھ کھول دیتے ہیں، ساری احتیاطیں ختم کر دیتے ہیں تو حالات ہمارے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او بار بار انتباہ کر رہا ہے کہ ابھی لاک ڈاؤن کسی صورت ختم نہ کیا جائے۔ ہمارے ہاں بہت سے شعبوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھول دیا گیا ہے، لیکن جن شعبوں کو حکومت نے نہیں کھولا، وہ من مانی کیسے کر سکتے ہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے سے سوائے انتشار اور بڑے بحران کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ تاجر تنظیموں کو ان حالات میں نظم و ضبط اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے نہ کہ وہ دھمکیوں پر اتر آئیں اور حکومت کو چیلنج کریں کہ وہ دکانیں بند کرکے دکھائے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ تو نہیں ہے کہ اس قسم کی حکم عدولی کی جائے۔ ظاہر ہے خود حکومت کا بھی اس میں کوئی فائدہ نہیں کہ بازار اور شاپنگ مال بند رکھے جائیں۔

وہ تو عوام کی معاشی مشکلات کو دیکھ کر حتی الامکان کوشش کر رہی ہے کہ جہاں جہاں ممکن ہے، پابندیاں نرم کی جائیں، لیکن تاجروں کا رویہ کچھ ایسا ہے، جیسے وہ سمجھتے ہوں کہ حکومت ان کی دشمن ہے اور زبردستی ان کا کاروبار بند کئے ہوئے ہے۔اس دور ابتلا میں حکومت سے تعاون کی ضرورت ہے ناکہ ایک نیا بحران پیدا کر دیا جائے۔ اچھی بات ہے کہ کراچی کے تاجروں نے اپنے فیصلے کو موخر کر دیا ہے اور جلد ہی ان کی سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے ملاقات بھی متوقع ہے، تاہم تاجر ہوں یا علمائے کرام، انہیں ایک بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ موجودہ صورتِ حال میں انفرادی فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ہر فیصلے کا اثر اجتماعی ہوگا۔ مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ تاجر بازار کھول کر بیٹھ جائیں اور اس کی وجہ سے کرونا کیسز بڑھنے لگیں تو وہ ان کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیں۔ معاملہ انسانی جانوں کا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ اگر یہ وباء تیزی سے پھوٹ پڑی تو ہمارے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں کرونا مریضوں کی دیکھ بھال کر سکی

اس وقت سب سے اہم ضرورت صبر و ضبط سے کام لینے کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معمول کی زندگی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مساجد کی ویرانی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ دکانیں بند ہونے سے تاجروں کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے، مگر ان سب قربانیوں کا مقصد بہت بڑا ہے کہ ہم نے کرونا وبا کو شکست دینی ہے۔ سب فیصلے اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر اور اتفاق رائے سے کئے جانے ضروری ہیں، کیونکہ انتشار و افتراق کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں

بڑے کام کرنے کے لیے سوچ بڑی کرنی ہوتی ہے، وزیراعظم عمران خان

بڑے کام کرنے کے لیے سوچ بڑی کرنی ہوتی ہے، وزیراعظم عمران خان

لاہور (میڈیا 92نیوز آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بڑے کام …