تازہ ترین خبریں
جسٹس فائز عیسیٰ کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

جسٹس فائز عیسیٰ کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد (میڈیا 92آن لائن) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے جو کہ آج شام سنائے جانے کا امکان ہے ، آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کردیں ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر کارروائی رکوانے کیلئے آئنی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیاہے جو کہ ممکنہ طور پر آج شام 4 بجے سنایا جائے گا ۔ آج شام سنایا جانے والا فیصلہ مختصر ہو گا ۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل بینچ نے کیس کی 40 سے زائد سماعتیں کیں جس کے بعد آج فیصلہ محفوظ کر لیا گیاہے جوکہ معزز جج صاحبان مشاورت کے بعد ممکنہ طور پر آج شام کو سنائیں گے۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کا اتفاق ہوا تو شام چار بجے فیصلہ سنائیں گے ، ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں ،ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں، اپنا کام آئین اورقانون کے مطابق کریں گے، ہمیں مشاورت کے لیے وقت چاہیے ہوگا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آر کے دستاویز سر بمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرائیںجب کہ ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی کی اہلیہ کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا گیا۔
فروغ نسیم کے ریکارڈ پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پرکوئی آرڈر پاس کریں گے، معزز جج کی بیگم صاحبہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کروائیں، ہم ابھی درخواست گزار کے وکیل منیر ملک کو سنتے ہیں۔
اس دوران جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔منیر اے ملک نے اپنے جوابی دلائل میں کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پربدنیتی کے الزامات تھے، فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے، فروغ نسیم نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کردی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔

یہ بھی پڑھیں

آج کے دن دنیا میں کیا کیا اہم واقعات پیش آئے ؟؟

آج کے دن دنیا میں کیا کیا اہم واقعات پیش آئے ؟؟

26 ستمبر ، 1932 – ہندوستان کے مہاتما گاندھی نے 6 دن اور 5 گھنٹے …