تازہ ترین خبریں
آیا صوفیہ، ارطغرل .. کیا ترکی کے صدر طیب اردگان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف سلطنتِ عثمانیہ ہے؟

آیا صوفیہ، ارطغرل .. کیا ترکی کے صدر طیب اردگان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف سلطنتِ عثمانیہ ہے؟

ترک صدر طیب اردگان نے کئی بار کہا ہے کہ ترکی واحد ملک ہے جو عالم اسلام کی قیادت کر سکتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جب اردوغان یہ کہتے ہیں تو ان کے ذہن میں سلطنت عثمانیہ کی میراث ہو گی۔

ترکی کے دارالخلافہ استنبول کے جس میوزیم، آیا صوفیہ، کو ملک کے صدر نے حال ہی میں‌مسجد میں تبدیل کر دیا ہے اس کے عین سامنے سنہ 1818 میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن سعود کا سر قلم کیا گیا تھا۔
سلطنت عثمانیہ کے فوجی شاہ عبداللہ بن سعود اور وہابی امام کو ایک زنجیر میں جکڑ کر استنبول لائے تھے۔ جب عبداللہ کا سر قلم کیا جا رہا تھا تو ایک بڑا ہجوم آیا صوفیہ کے باہر جشن منا رہا تھا۔ آیا صوفیہ کے باہر عبداللہ کی سربریدہ لاش کو تین دن تک رکھا گیا تھا۔
اس دوران سلطنتِ عثمانیہ کے فوجیوں نے اس وقت کے سعودی دارالحکومت دیریہ اور ریاض کے مضافات میں حملہ کیا تھا۔سنہ 1924 میں عثمانیہ سلطنت سمٹ کر جدید ترکی تک رہ گئی تھی اور جدید ترکی عثمانیہ سلطنت کو اپنی شاندار تاریخ سمجھتا ہے۔
سعودی عرب ترکی کے ساتھ اپنی یہ ہولناک تاریخ کو شاید ہی بھولے گا۔ جے این یو میں مشرق وسطی کے امور کے پروفیسر اے کے پاشا کا کہنا ہے کہ جب سعودی عرب اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالتا ہے تو اسے سلطنت عثمانیہ کا دور سب سے پہلے یاد آتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’عثمانی ہمیشہ سعودیوں کو ایک بدتمیز قبیلہ سمجھتے تھے۔ اگرچہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ ہیں اور یہ دونوں عثمانیوں کے ماتحت بھی رہے ہیں لیکن کوئی ترک سلطان کبھی حج پر نہیں گیا۔‘
سنہ 1932 سے پہلے دو مرتبہ سعودی عرب کو ایک ملک بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن دونوں مرتبہ سلطنت عثمانیہ نے اسے تباہ کر دیا۔
پہلی بار سنہ 1818 میں اور دوسری بار 1871 میں اسے تباہ کیا گیا۔ سعودی عرب کی تیسری کوشش اس وقت کامیاب ہوئی جب انھوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی حمایت کی اور سلطنت عثمانیہ کو اس کا سامنا کرنا پڑا۔
اب ایک بار پھر ترک صدر اردگن سلطنتِ عثمانیہ کے ماضی کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی تازہ مثال آیا صوفیہ ہے۔
سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی سنی اکثریتی مسلم ممالک ہیں لیکن دونوں کی تاریخ بہت ہی خوں ریز ہے۔
1500 سالہ قدیم یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ آیا صوفیہ مسجد سے پہلے اصل میں چرچ تھا۔ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا نے 1930 کی دہائی میں اسے ایک میوزیم بنایا تھا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے گذشتہ سال اسے ایک مسجد بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں گدھی کے دودھ کی قیمت سُن کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

بھارت میں گدھی کے دودھ کی قیمت سُن کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

لاہور ( میڈیا 92 نیوز رپورٹ) سبط اعوان سے بھارتی ریاست گجرات میں گدھوں کی …