لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو لیگی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو لیگی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

عدالت نے ہوم سیکرٹری، آئی جی سمیت دیگر سے 24 نومبر کو رپورٹ طلب کرلی۔
لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیخلاف درخواست پر سماعت، عدالت نے پولیس کو لیگی کارکنوں کو غیر قانونی ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے ہوم سیکرٹری، آئی جی سمیت دیگر سے 24 نومبر کو رپورٹ طلب کرلی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس چودھری مشتاق احمد نے مسلم لیگ (ن) لائرز فورم لاہور کے صدرایڈووکیٹ رفاقت علی ڈوگر کی درخواست پر سماعت کی، درخواستگزار کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ، طاہر نصراللہ وڑائچ سمیت دیگر پیش ہوئے، جسٹس چودھری مشتاق احمد نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کہتی ہے کہ ساری پولیس (ن) لیگ کی لگائی ہوئی ہے، حکومت کے کہنے پر نہیں چلتی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ بولے قائد اعظم کا فرمان تھا کہ سرکاری اہلکار ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، اس وقت پولیس سیاسی بنیادوں پر (ن) لیگیوں کیخلاف مقدمات کا اندراج کر رہی ہے، سیاسی جلسے روکنے کیلئے کارکنوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، 13 دسمبر کو لاہور میں ہونیوالا پی ڈی ایم کا جلسہ روکنے کیلئے (ن) لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پولیس کو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کیخلاف درج تمام مقدمات ختم کرنے ہراساں نہ کرنے اور لیگی رہنماؤں و کارکنوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانیوں کی اکثریت وزیراعظم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،سروے

پاکستانیوں کی اکثریت وزیراعظم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،سروے

اسلام آباد ( آن لائن )کورونا وائرس اور مہنگائی نے پاکستانی عوام کو چاروں طرف …