اونٹ کی کھال جیسا جیل جو غذا اور دواؤں کو ٹھنڈا رکھ سکتا ہے ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے

اونٹ کی کھال جیسا جیل جو غذا اور دواؤں کو ٹھنڈا رکھ سکتا ہے ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے

بوسٹبن: سائنسدانوں نے قدرت کے کارخانے سے کئی راز فاش کرکے ان سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب اونٹ کی کھال کی طرز پر ایک ہائیڈروجیل بنایا گیا ہے جو بجلی کے بغیر کئی روز تک ادویہ اور غذا کو ٹھنڈا رکھ سکتا ہے۔

جیل کی باریک جھلی عین اونٹ کی کھال جیسا کام کرتی ہے اور کئی روز تک انسولیشن یعنی ٹھنڈک فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے اس میں رکھی جانے والی اشیا بجلی کے بغیر بھی بہت دنوں تک سرد درجہ حرارت پر رکھی جاسکتی ہیں۔

دنیا بھر کے تجربہ خانوں میں ہائیڈروجیل پر کام ہورہا ہے۔ پانی بھرے یہ مادے کہیں زخم کو نم رکھ رہے ہیں، کہیں دوا خارج کررہے ہیں تو کہیں اشیا کو کم درجہ حرارت دے رہے ہیں۔ پانی کی وجہ سے یہ کسی برقی توانائی کے بغیر دھیرے دھیرے نمی خارج کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ اثر جلد ہی ختم ہوجاتا ہے اور ماہر چاہتے ہیں کہ ہائیڈروجیل کی نمی اور ٹھنڈک دینے کا وقت طویل کیا جاسکے۔ اب صحرائی جہاز اونٹ کی کھال پر غور کرنے کے بعد سائنسدانوں نے طویل عرصے تک سرد رہنے والے ہائیڈروجیل کا خواب ممکن بنایا ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کےجیفری گراسمین اور ان کے ساتھیوں نے پہلے اونٹوں کا بغور مطالعہ کیا کہ وہ کس طرح سخت گرمی میں خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں اس کی کھال کو دیکھا تو اسے دو پرتوں میں پایا۔ اس کے بعد انہوں نے اس عمل کی مصنوعی طور پر نقل کی کوشش کی یعنی پہلے ایک ہائیڈروجیل بنایا اور اسے ایک اور باریک ایئرو جیل میں رکھا لیکن دوسری تہہ میں خردبینی چھید بنائے جس سے پانی رس رس کر باہر آتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ دوہری پرت والے ہائیڈرجیل عین اونٹ کی کھال کی طرح کام کرتے ہیں۔

پہلا ہائیڈروجیل اونٹ کے جسم میں پسینے کے غدودکی طرح ہی کام کرتا ہے یعنی پانی کو بخارات بن کر اڑاتا رہتا ہے اور خود کو سرد رکھتا ہے۔ لیکن اس کے اوپر کی ایک اورہوا بھرا ایئروجیل اونٹ کی کھال کی طرح کام کرتا ہے۔ اس طرح زبردست انسولیشن ملتی ہے، پانی دھیرے دھیرے ضائع ہوتا ہے اور اس میں رکھی اشیا کسی بجلی کے بغیر بہت دیر تک ٹھنڈی رکھی جاسکتی ہیں۔

یعنی اس عمل میں بخارات بننے (ایوپوریشن) اور حرارت کے باہر کی آمدورفت (انسولیشن) کو روکنے کا دوہرا نظام ایک ہی وقت میں کام کرتا ہے۔ اسے تجربہ گاہ میں آزمایا گیا تو معلوم ہوا کہ ہائیڈروجیل اور ایئروجیل میں رکھی گئی اشیا بقیہ ماحول سے سات درجے سینٹی گریڈ تک سرد رہ سکتی ہیں۔ جبکہ عام ہائیڈروجیل یہ کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی بہت دیر تک ٹھنڈا رہ سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف ایک ہائیڈروجیل میں اگر ایئروجیل کی چادر لپیٹ دی جائے تو اس سے 250 گھنٹے کی ٹھنڈک ملتی ہے جو دس دنوں کے لیے کافی ہے۔ اس دوران غذا کو سرد رکھا جاسکتا ہے، ویکسین ایک سے دوسری جگہ پہنچائی جاسکتی ہے اور غریب علاقوں میں ادویہ کو مناسب درجہ حرارت پر رکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جنوبی کوریا میں بھی ڈرون ٹیکسی کی کامیاب پروازیں

جنوبی کوریا میں بھی ڈرون ٹیکسی کی کامیاب پروازیں

(میڈیا92نیوز) مسافروں کو پرہجوم شہروں میں ایک سے دوسری جگہ لے جانے والی اپنی اہم …